تر دامن

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - [ کنایۃ ]  مجرم، بدکار، گنہگار۔  تر دامن آرہے ہیں سوئے کبعہ جو ق جوق تاویل ھائے دفتر عصیاں کیے ہوئے      ( ١٩٣٥ء، عزیز لکھنوی، صحیفۂ ولا، ١٠٣ )

اشتقاق

فارسی زبان کے لفظ 'تَر' کے ساتھ 'دامن' بطور اسم لگا کر مرکب توصیفی بنا ہے اردو میں سب سے پہلے ١٨٧٢ء کو "مراۃ الغیب" میں مستعمل ملتا ہے۔